ناگ پٹنم ، 27/مئی (ایس او نیوز ) تمل ناڈو کے ناگاپٹنم ضلع میں پولیس نے تھروپونڈی سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک کارکن کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جس پر ایک باحجاب ڈاکٹر کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور جان بوجھ کر اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق بی جے پی کا ایک ورکربھونیشور رام اپنے دوست سبرامنیم کے ساتھ 24 مئی کی دیر رات تھروپونڈی پرائمری ہیلتھ سینٹر گیا تھا جسے طبی امداد کی ضرورت تھی، یہاں رات کی ڈیوٹی پر تعینات خاتون ڈاکٹر کو باحجاب دیکھ کر وہ بھڑک اُٹھا اور اس نے خاتون ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے جھگڑا شروع کردیا۔ اس کو اس بات کی شکایت تھی کہ ڈاکٹر نے ڈیوٹی کے دوران حجاب کیوں پہن رکھا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس معاملہ کی ایک وڈیو سوشیل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی ہے۔
رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر جنت فردوس کے ساتھ جھگڑا کرنے کے دوران بھونیشور رام اس کی وڈیو بھی بنارہا تھا، جس پر ڈاکٹر جنت فردوس نے سخت اعتراض جتایا۔ اس کا کہنا تھا کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں رات کی شفٹ کرنے کے دوران خاتون ڈاکٹر کے ساتھ نازیبا کلمات کا استعمال کرنا اور بغیر اجازت خاتون ڈاکٹر کی وڈیو شوٹ کرنا بالکل غلط ہے۔ بعد میں ڈاکٹر جنت فردوس نے اس تعلق سے بھونیشور رام کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق جب بی جے پی ورکر نازیبا کلمات ادا کررہا تھا اور وڈیو شوٹ کررہا تھا تو اُسی وقت ڈاکٹر جنت فردوس نے بھی اپنے موبائل سے جھگڑاکرنے کی وڈیو شوٹ کرنا شروع کردیا۔ اس موقع پر وہاں پر موجود دیگر لوگوں نے بھی بھونیشور رام کی وڈیو بنانے لگ گئے۔ موقع واردات پر موجود لوگوں کابھی کہنا تھا کہ رات کے وقت ایک خاتون ڈاکٹر کی بغیر اجازت وڈیو بنانا بالکل غلط ہے۔
بہرحال پولس نے بھونیشور رام کے خلافآئی پی سی کی دفعہ 294B (عوامی جگہ پر فحش الفاظ بولنا)، 353 (سرکاری ملازم کو ڈیوٹی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت) اور 298 (مذہبی جذبات کو مجروح کرنا) معاملہ درج کیاہے۔پتہ چلا ہے کہ پولیس تاحال ملزم کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو ئی ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔